3 جنوری 2026 - 02:50
الحاج قاسم کا نام ایران کے سہ رخی دفاع کا استعارہ

لیفٹیننٹ جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کے چھ سال بعد، ان کا نام نہ صرف ایک بہادر کمانڈر کی یادآوری ہے بلکہ سمندر اور آسمان میں ایران کی دفاعی طاقت کی علامت بھی ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ان دنوں لیفٹیننٹ جنرل حاج قاسم سلیمانی کی شہادت کی چھٹی برسی منائی جا رہی ہے، ایک ایسے کمانڈر جن کا نام قومی سلامتی، علاقائی دفاع اور دہشت گردی کے منصوبوں کی شکست سے جڑا ہوا ہے، اور آج ہم پہلے سے کہیں زیادہ اسلامی جمہوریہ ایران کی دفاعی طاقت کی تعمیر میں ان کے راستے اور مکتب کے تسلسل کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

الحاج قاسم کا نام ایران کے سہ رخی دفاع کا استعارہ

آج، "حج قاسم" کا نام صرف ایک شہید کمانڈر کی یاد دہانی نہیں ہے، بلکہ جدید ایرانی ہتھیاروں کے میدان میں ایک اسٹراٹیجک علامت بن گیا ہے۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے پہلے تیز رفتار جنگی جہاز "شہید سلیمانی" سے لے کر "حاج قاسم" پن پوائنٹ بیلسٹک میزائل تک، جس نے علاقائی ڈیٹرنس کا قاعدہ بدل کر رکھ دیا ہے۔

الحاج قاسم کا نام ایران کے سہ رخی دفاع کا استعارہ

یہ رپورٹ تین فوجی کامیابیوں پر نظر ڈالتی ہے جن پر اس عظیم شہید کے اعزاز میں ان کے نام سے موسوم کیا گیا ہے؛ وہ کامیابیاں جو سخت اور نرم جنگ کے میدانوں میں ان کے مشن کے براہ راست تسلسل کی علامتیں ہیں۔

الحاج قاسم کا نام ایران کے سہ رخی دفاع کا استعارہ

شہید سلیمانی بحری جہاز؛ عالمی سمندروں میں ایرانی طاقت کا تسلسل

شہید سلیمانی بحری جہاز، سپاہ پاسداران کی بحری فورس کا "شہید سلیمانی" کلاس کا پہلا جنگی جہاز ہے، جس کی نقاب کشائی 5 ستمبر 2022 کو کی گئی تھی، ایک کثیر المقاصد کیٹاماران (دو ڈھانچوں والا) جہاز ہے جس کی باڈی ایلومینیم کی بنی ہوئی ہے۔ اس جہاز وکشروع سے ہی فائر پاور اور آپریشنل صلاحیت کے امتزاج کے مقصد سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

الحاج قاسم کا نام ایران کے سہ رخی دفاع کا استعارہ

بلاشبہ، شہید سلیمانی کلاس سپاہ پاسداران کی بحریہ کے جہازوں کی ایک کلاس کا نام ہے جو سمندری مشن انجام دیتے ہیں، اور اب تک اس کلاس سے شہید سید شیرازی، شہید حسن باقری اور شہید رئیس علی دلواری کے نام سے دیگر اقسام کو بھی آپریشنل کیا جا چکا ہے۔

'حاج قاسم' ایران کے سہ رخی دفاع کا استعارہ

شہید قاسم سلیمانی کی یاد اب ایک بہادر کمانڈر سے بڑھ کر ایران کی دفاعی صلاحیت کا زندہ نشان بن چکی ہے۔ ان کے نام سے موسوم جدید ترین جنگی وسائل ـ ایک تیز رفتار جنگی جہاز، ایک درست نشانہ لگانے والا میزائل، اور ایک انتہائی درست اور ذہین میزائل ـ جو گواہی دیتے ہیں کہ ان کا نظریہ اور طریق کار ایران کی دفاعی طاقت کے ڈھانچے میں رچ بس گیا ہے۔

یہ جنگی آلات محض علامتی نہیں ہیں؛ یہ ایران کی تزویراتی رسائی اور دفاعی خود انحصاری کی عملی مظہر ہیں۔ 'شہید سلیمانی' نامی جنگی جہاز سمندری محاذ پر ایران کی طویل المدتی موجودگی اور ہمہ جہت صلاحیت کی عکاسی کرتا ہے۔ 'حاج قاسم' نامی میزائل طویل فاصلے تک انتہائی درستگی اور تیزی کے ساتھ نشانہ لگانے کی صلاحیت کا اظہار ہے۔ جبکہ 'قاسم بصیر' نامی میزائل جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے انتہائی درست نشانہ بازی اور الیکٹرانک جنگ میں مزاحمت کی صلاحیت کا عملی اور ترقی یافتہ ثبوت ہے۔

ایرانی دفاعی سازوسامان پر شہید سلیمانی کی شناخت کا اطلاق

شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کے چھ سال بعد، ایران نے اپنے تین اہم دفاعی نظاموں کو ان کے نام سے موسوم کیا ہے، جو ان کی میراث کو ایک علامتی اور عملی دفاعی طاقت میں تبدیل کرنے کی کامیاب کوشش ہے۔

1. شہید سلیمانی کلاس کا تیز رفتار جنگی بحری جہاز:

یہ ایک کیٹاماران (دو ڈھانچوں والے) ڈیزائن کا بحری جہاز ہے جس کا بنیادی مقصد سمندری صلاحیت کو بڑھانا ہے۔ اس کی اہم خصوصیات میں 600 ٹن وزن، 32 سمندری میل فی گھنٹہ کی رفتار، اور 5000 سمندری میل کی آپریشنل رینج شامل ہیں۔ یہ جہاز 6 کروز میزائلز، 6 زمین پر مار کرنے والے میزائلز، 16 ایئر ڈیفنس میزائلز، اور ایک ہیلی کاپٹر لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا مقصد ایران کی دور دراز سمندری موجودگی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط کرنا ہے۔

2. شہید حاج قاسم بیلسٹک میزائل:

یہ 1400 کلومیٹر فاصلے تک مار کرنے والا میزائل ہے جو 500 کلوگرام وارہیڈ لے جا سکتا ہے۔ اس کی بنیادی خصوصیت اس کی اعلی درستگی ہے، جو اسے "پوائنٹ ہٹ" صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ اس میں ٹھوس ایندھن والا راکٹ انجن بروئے کار لایا گیا ہے، جس سے لانچ کی تیاری کا وقت کم ہو جاتا ہے۔ اس میزائل کا مقصد ایران کی علاقائی تسدیدی کی حکمت عملی میں اضافہ کرنا ہے۔

3. قاسم بصیر بیلسٹک میزائل (شہید حاج قاسم میزائل کی اپ گریڈڈ شکل):

یہ نظام 1200 کلومیٹر سے زیادہ کی رینج اور ایک میٹر سے کم کی درستگی کے ساتھ ایک انتہائی درست نشانے پر لگنے والا میزائل ہے۔ یہ تھرمل امیجنگ سسٹم استعمال کرتا ہے جو حتمی رہنمائی کے لئے ہیٹ سگنلز پر انحصار کرتا ہے، اور اس میں جی پی ایس سے آزاد نیویگیشن سسٹم (Inertial Navigation) بھی شامل ہے۔ یہ خصوصیات اسے جدید ترین ایئر ڈیفنس سسٹمز اور الیکٹرانک جنگ کے حالات کے خلاف مزاحم بناتی ہیں۔

خلاصہ یہ کہ ہتھیاروں کو حاج قاسم کے نام سے موسوم کرنے کا یہ عمل، محض ایک علامتی عمل سے زیادہ ایک تزویراتی حکمت عملی کا اظہار ہے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہید سلیمانی سے وابستہ تصورات ـ جیسے ردعمل، درستگی، اور ٹیکنالوجیکل خود انحصاری ـ اب ایران کے دفاعی ڈاکٹرین اور ہارڈویئر جنگ کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ نظام ایران کی بحری طاقت، طویل فاصلے تک مار کرنے کی درست صلاحیت، اور جدید ترین گائیڈنس ٹیکنالوجی میں مہارت کا مظہر ہیں۔

پیغام واضح ہے: شہید سلیمانی کا مشن رکا نہیں، بلکہ بدل کر نئے اور مضبوط تر روپ میں ہمارے سامنے آیا ہے۔ آج ان کا خون طاقت، مضبوطی اور خود انحصاری کی نئی منزلوں کا سرچشمہ بنا ہے۔ یہ فوجی ایجادات صرف جنگی طاقت کا اظہار نہیں، بلکہ ایک قوم کے عزم اور اپنے محافظوں کے لئے اس کی لازوال عقیدت کی علامت ہیں۔ 'حاج قاسم' کا نام اب ایک شخص نہیں، بلکہ ایران کی ناقابل تسخیر دفاعی روح کا نام ہے؛ حاج قاسم سلیمانی آج "مکتب سلیمانی" کے نام سے موجود اور سرگرم عمل ہیں، ہر میدان میں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی طلوع وند

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

 

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha